نیرنگئ ایام کی بات آ ہی گئی ہے
نیرنگئ ایام کی بات آ ہی گئی ہے
آغاز میں انجام کی بات آ ہی گئی ہے
جب آذر تخیئل نے بت کوئی تراشا
کاشی ترے اصنام کی بات آ ہی گئی ہے
مشتاق نگاہوں کی جسارت پہ سر بزم
گستاخی و الزام کی بات آ ہی گئی ہے
حالات کے تپتے ہوئے ویران کھنڈر میں
تسکین در و بام کی بات آ ہی گئی ہے
تاریخ تمدن ہو کہ آرائش گیتی
فنکار ترے کام کی بات آ ہی گئی ہے
راحت کدۂ خواب و طرب گاہ میں ماہرؔ
کچھ فرض کی کچھ کام کی بات آ ہی گئی ہے
- مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.