نفرتوں کے نتیجے سے نا آشنا بربریت کے انجام سے بے خبر
نفرتوں کے نتیجے سے نا آشنا بربریت کے انجام سے بے خبر
لوگ بیٹھے ہیں بارود کے ڈھیر پر صبح سے بے خبر شام سے بے خبر
کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ یہ شکر کی بات ہے یا شکایت کی ہے
اس نے اتنے لقب دے دیے ہیں کہ ہم ہو گئے اپنے ہی نام سے بے خبر
تم سمجھتے ہو رنگین دنیا جسے اک مشقت کدہ ہے ہمارے لیے
رات دن بوجھ سانسوں کا ڈھوتے ہیں ہم زندگی کے ہر آرام سے بے خبر
صبح کو چائے کے ساتھ اخبار بھی حرف در حرف ہم چاٹتے ہیں مگر
اپنے گھر کی شبوں سے بھی لا علم ہم اپنے آنگن کے ایام سے بے خبر
مطمئن ہوں کہ ساحلؔ مری شاعری ہے مکمل مری کاوش مستقل
میری غزلیں ہیں آمد سے ناآشنا میرے اشعار الہام سے بے خبر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.