Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نفرتوں کے نتیجے سے نا آشنا بربریت کے انجام سے بے خبر

ساحل سحری

نفرتوں کے نتیجے سے نا آشنا بربریت کے انجام سے بے خبر

ساحل سحری

MORE BYساحل سحری

    نفرتوں کے نتیجے سے نا آشنا بربریت کے انجام سے بے خبر

    لوگ بیٹھے ہیں بارود کے ڈھیر پر صبح سے بے خبر شام سے بے خبر

    کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ یہ شکر کی بات ہے یا شکایت کی ہے

    اس نے اتنے لقب دے دیے ہیں کہ ہم ہو گئے اپنے ہی نام سے بے خبر

    تم سمجھتے ہو رنگین دنیا جسے اک مشقت کدہ ہے ہمارے لیے

    رات دن بوجھ سانسوں کا ڈھوتے ہیں ہم زندگی کے ہر آرام سے بے خبر

    صبح کو چائے کے ساتھ اخبار بھی حرف در حرف ہم چاٹتے ہیں مگر

    اپنے گھر کی شبوں سے بھی لا علم ہم اپنے آنگن کے ایام سے بے خبر

    مطمئن ہوں کہ ساحلؔ مری شاعری ہے مکمل مری کاوش مستقل

    میری غزلیں ہیں آمد سے ناآشنا میرے اشعار الہام سے بے خبر

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے