تیری جانب دوبارہ آ رہا ہوں
تیری جانب دوبارہ آ رہا ہوں
میں کتنا ڈھیٹ ہوتا جا رہا ہوں
مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے
تمہارے ہاتھ میں مرجھا رہا ہوں
مرے ماں باپ خالی آ رہے ہیں
میں رشتہ بھیج کے پچھتا رہا ہوں
خدا جانے یہ کس کی بندگی ہے
ترے کہنے پہ مسجد جا رہا ہوں
مرے خوابوں سے تو ٹکرا رہی ہے
ترے خوابوں سے میں ٹکرا رہا ہوں
تو دریا ہے مگر ٹھہرا ہوا ہے
میں صحرا ہوں مگر بہتا رہا ہوں
زباں دانی اسے کہتے ہیں یارو
میں اس کے سامنے ہکلا رہا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.