نہ کسی در سے لپٹتا نہ چمٹ جاتا ہوں
نہ کسی در سے لپٹتا نہ چمٹ جاتا ہوں
سرد مہری ذرا دیکھوں تو پلٹ جاتا ہوں
شاعری ساتھ چلی آتی ہے دروازے تک
آ کے دفتر میں ہر اک چیز سے کٹ جاتا ہوں
بعض اوقات زمیں تنگ سی لگتی ہے مجھے
بعض اوقات کسی دل میں سمٹ جاتا ہوں
ایسا بادل ہوں کہ اک پل میں اندھیرا کر دوں
اتنا ہلکا ہوں کہ اک سانس سے چھٹ جاتا ہوں
اس نے شوکیس کے اوپر مجھے رکھا ہوا ہے
آنے والوں کی عنایات سے اٹ جاتا ہوں
اے زمیں لوگ فلک بوس مجھے جانتے ہیں
جب تری حد سے نکلتا ہوں تو گھٹ جاتا ہوں
ماں کے سینے کی طرح اب مجھے تنہائی ہے
کوئی آہٹ بھی سنوں اس سے چمٹ جاتا ہوں
زندگی میری ہے اور میری حفاظت میں ہے
آپ کہتے ہیں تو میں راہ سے ہٹ جاتا ہوں
اسی مشکل میں ظہیرؔ اب مجھے آسانی ہے
میں ہمیشہ سے زمانے کے الٹ جاتا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.