Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نہ کسی در سے لپٹتا نہ چمٹ جاتا ہوں

ثناء اللہ ظہیر

نہ کسی در سے لپٹتا نہ چمٹ جاتا ہوں

ثناء اللہ ظہیر

MORE BYثناء اللہ ظہیر

    نہ کسی در سے لپٹتا نہ چمٹ جاتا ہوں

    سرد مہری ذرا دیکھوں تو پلٹ جاتا ہوں

    شاعری ساتھ چلی آتی ہے دروازے تک

    آ کے دفتر میں ہر اک چیز سے کٹ جاتا ہوں

    بعض اوقات زمیں تنگ سی لگتی ہے مجھے

    بعض اوقات کسی دل میں سمٹ جاتا ہوں

    ایسا بادل ہوں کہ اک پل میں اندھیرا کر دوں

    اتنا ہلکا ہوں کہ اک سانس سے چھٹ جاتا ہوں

    اس نے شوکیس کے اوپر مجھے رکھا ہوا ہے

    آنے والوں کی عنایات سے اٹ جاتا ہوں

    اے زمیں لوگ فلک بوس مجھے جانتے ہیں

    جب تری حد سے نکلتا ہوں تو گھٹ جاتا ہوں

    ماں کے سینے کی طرح اب مجھے تنہائی ہے

    کوئی آہٹ بھی سنوں اس سے چمٹ جاتا ہوں

    زندگی میری ہے اور میری حفاظت میں ہے

    آپ کہتے ہیں تو میں راہ سے ہٹ جاتا ہوں

    اسی مشکل میں ظہیرؔ اب مجھے آسانی ہے

    میں ہمیشہ سے زمانے کے الٹ جاتا ہوں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے