وقت کی کج روی سے خطرہ ہے
وقت کی کج روی سے خطرہ ہے
اس کی اس بے رخی سے خطرہ ہے
کتنا بے بس ہے آدمی کہ اسے
ایک جرثوم ہی سے خطرہ ہے
دشت جہل درون ہستی کو
جلوۂ آگہی سے خطرہ ہے
جس میں ہے رہزنی کی آمیزش
ایسی اک رہبری سے خطرہ ہے
جام ہستی میں زہر جو گھولے
ہم کو ایسی خوشی سے خطرہ ہے
ہم کو اے راحت جگر تیرے
بوسۂ آتشی سے خطرہ ہے
ظلمت فتنۂ یزیدی کو
خون ابن علی سے خطرہ ہے
جو حقیقت میں شاعری ہی نہیں
ہم کو اس شاعری سے خطرہ ہے
ہر حقیقت کی یہ حقیقت ہے
موت کو زندگی سے خطرہ ہے
رہیے محتاط اے ابو شبرؔ
اجرت بندگی سے خطرہ ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.