Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مزہ باقی نہ مرنے میں گیا ہے لطف جینے سے

سید ارقم بخاری

مزہ باقی نہ مرنے میں گیا ہے لطف جینے سے

سید ارقم بخاری

MORE BYسید ارقم بخاری

    مزہ باقی نہ مرنے میں گیا ہے لطف جینے سے

    کہ جیسے گر گیا ہوں آخری منزل کے زینے سے

    شراب عشق جس نے پی وہ اس کو اور بھی مانگے

    یہ ایسا جام ہے کہ تشنگی بڑھتی ہے پینے سے

    محبت کے شراروں سے یہ خاکستر نہ ہو جائے

    لگی ہے آگ دل میں اور دھواں اٹھتا ہے سینے سے

    مصائب کے بھنور میں ناگہانی تو نہ ہم آئے

    ہمارے ناخدا نے پھیر لی نظریں سفینے سے

    اگر اخلاص کی کنجی عطا ہر ایک کو ہوتی

    تو پھر کم ظرف کیا لیتے محبت کے خزینے سے

    ابھی نادم نہیں ہے پر ندامت جب اسے ہوگی

    تو دنیا ڈوب جائے گی ندامت کے پسینے سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے