مزہ باقی نہ مرنے میں گیا ہے لطف جینے سے
مزہ باقی نہ مرنے میں گیا ہے لطف جینے سے
کہ جیسے گر گیا ہوں آخری منزل کے زینے سے
شراب عشق جس نے پی وہ اس کو اور بھی مانگے
یہ ایسا جام ہے کہ تشنگی بڑھتی ہے پینے سے
محبت کے شراروں سے یہ خاکستر نہ ہو جائے
لگی ہے آگ دل میں اور دھواں اٹھتا ہے سینے سے
مصائب کے بھنور میں ناگہانی تو نہ ہم آئے
ہمارے ناخدا نے پھیر لی نظریں سفینے سے
اگر اخلاص کی کنجی عطا ہر ایک کو ہوتی
تو پھر کم ظرف کیا لیتے محبت کے خزینے سے
ابھی نادم نہیں ہے پر ندامت جب اسے ہوگی
تو دنیا ڈوب جائے گی ندامت کے پسینے سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.