عجیب حال میں بخشی گئیں مجھے سانسیں
عجیب حال میں بخشی گئیں مجھے سانسیں
جہاں گھٹن ہے وہاں کیسے کوئی لے سانسیں
یہ آرزو بھی مری ہو نہیں سکی پوری
کوئی گلے سے لگا کر مری سنے سانسیں
اسی نے چین سے جینے نہیں دیا ہم کو
وہ جس کے نام محبت میں کر چکے سانسیں
ہر ایک سانس ترے نام کر کے جاتا ہوں
قضا کے بعد مبارک مری تجھے سانسیں
اکیلا میں ہی نہیں ہوں جو اس پہ مرتا ہوں
اسے تو دیکھ کے بھرتے ہیں آئنے سانسیں
وہ چاہتا ہے کہ کر دوں انہیں بھی اس کے نام
جو میرے پاس ہیں گنتی کی چند یہ سانسیں
انہیں بھی چھین لے اے میری زندگی مجھ سے
جو بچ گئی ہیں کبیراؔ یہ کیا کرے سانسیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.