سارے موسم جی بہلاویں سارے لیں جی جیت پیا جی
سارے موسم جی بہلاویں سارے لیں جی جیت پیا جی
اک رت آوے اک رت جاوے جیون جائے بیت پیا جی
ہر میا کا اپنا آنگن ہر آنگن کی اپنی بپتا
ہر آنگن کی اپنی شکشا اپنی نندیا ریت پیا جی
میں جمنا اس پار کی باسی اک ڈیوڑھی کی رانی داسی
کے پوچھو ہو موہ کہانی میں کیا جانوں پیت پیا جی
اک پل جس کے ہیٹھ نہ چھایا جو بیٹھا سو وہ پچھتایا
مایا دیکھو جیون کی سب ودیا اس کے بھیت پیا جی
من کو اتنی بات سجھاوے سب بھوگیں یو بھوگ برابر
کیا موجی کیا جی کا روگی کیا چوکنا چیت پیا جی
سب کو اپنے روگ اکہرے سب کے اپنے کھیت سنہرے
سب کا اپنا من من بھاون اور اپنا من میت پیا جی
کیا راون کیا رام کی بھگتی ہر من اپنا راگ الاپے
جس کا کھاوے اس کا گاوے یو من بھاتا گیت پیا جی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.