بدلے ہوئے موسم کی ادا دیکھ رہے ہیں
بدلے ہوئے موسم کی ادا دیکھ رہے ہیں
گاؤں میں بھی آلودہ ہوا دیکھ رہے ہیں
ہوتے نہیں اب صاف پہاڑوں کے مناظر
کچھ دن سے یہ دھندلائی فضا دیکھ رہے ہیں
آج ان کے لبوں پر کوئی شکوہ نہ شکایت
حیرت ہے کہ ہم آج یہ کیا دیکھ رہے ہیں
ہر سمت ہمیں ایک تماشہ نظر آیا
دنیا سے ذرا خود کو جدا دیکھ رہے ہیں
سر خم کیے لوگوں کی قطاریں نظر آئیں
ہوتے ہوئے بندوں کو خدا دیکھ رہے ہیں
فرحانؔ یہ دنیا تمہیں جینے نہیں دے گی
ہم اس کو بہت تم سے خفا دیکھ رہے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.