میں تو ہوا ہوں گردش شام و سحر میں گم
میں تو ہوا ہوں گردش شام و سحر میں گم
منزل کو کیا ہوا وہ ہوئی کس سفر میں گم
کیوں گم ہوئی نگاہ تری کائنات میں
جب سے مری نظر ہوئی تیری نظر میں گم
ساحل پہ آ لگا ہے مرے ناخدا کی خیر
اپنی بلا سے کشتی ہوئی کس بھنور میں گم
انجام آرزو ہے فقط مرگ آرزو
دل سے نکل کے بات ہوئی خود اثر میں گم
محشر سے کم نہیں ہے یہ ہنگام زندگی
پھرتے ہیں لاکھوں آدمی تنہا نگر میں گم
یہ اور بات تجھ کو ہماری خبر نہ ہو
ہم ہو چکے ہیں کب سے تری رہگزر میں گم
اب صبح نو سے خاک توقع کرے کوئی
جب آفتاب ہو گیا گرد سفر میں گم
اڑنے کے بعد آپ خلاؤں میں کھو گئے
اچھے رہے ہمیں کہ رہے بال و پر میں گم
واصفؔ وہ ایک بات جو لب تک نہ آ سکی
وہ بات ہو گئی ہے مری چشم تر میں گم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.