Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میں تو ہوا ہوں گردش شام و سحر میں گم

واصف علی واصف

میں تو ہوا ہوں گردش شام و سحر میں گم

واصف علی واصف

MORE BYواصف علی واصف

    میں تو ہوا ہوں گردش شام و سحر میں گم

    منزل کو کیا ہوا وہ ہوئی کس سفر میں گم

    کیوں گم ہوئی نگاہ تری کائنات میں

    جب سے مری نظر ہوئی تیری نظر میں گم

    ساحل پہ آ لگا ہے مرے ناخدا کی خیر

    اپنی بلا سے کشتی ہوئی کس بھنور میں گم

    انجام آرزو ہے فقط مرگ آرزو

    دل سے نکل کے بات ہوئی خود اثر میں گم

    محشر سے کم نہیں ہے یہ ہنگام زندگی

    پھرتے ہیں لاکھوں آدمی تنہا نگر میں گم

    یہ اور بات تجھ کو ہماری خبر نہ ہو

    ہم ہو چکے ہیں کب سے تری رہگزر میں گم

    اب صبح نو سے خاک توقع کرے کوئی

    جب آفتاب ہو گیا گرد سفر میں گم

    اڑنے کے بعد آپ خلاؤں میں کھو گئے

    اچھے رہے ہمیں کہ رہے بال و پر میں گم

    واصفؔ وہ ایک بات جو لب تک نہ آ سکی

    وہ بات ہو گئی ہے مری چشم تر میں گم

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے