سوال جام بھلا بار بار کیا کرتے
سوال جام بھلا بار بار کیا کرتے
نہ چھینتے جو سبو بادہ خوار کیا کرتے
ہزار بار جنہیں آزما کے دیکھ لیا
ہم ان کی بات کا پھر اعتبار کیا کرتے
تمام رات جو گنتے رہے ستاروں کو
وہ میرے داغ جگر کا شمار کیا کرتے
جنہیں پسند ہیں حرص و ہوس کے افسانے
ہم ان سے ذکر غم روزگار کیا کرتے
جنوں کی روشنی کرتی ہو جن کی راہبری
نمود صبح کا وہ انتظار کیا کرتے
عبث ہیں اہل خرد سے شکایتیں مضطرؔ
جو محو خواب ہیں خود ہوشیار کیا کرتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.