خدا کی خدائی میں کیا کیا نہ دیکھا
خدا کی خدائی میں کیا کیا نہ دیکھا
مگر کوئی بد عہد تم سا نہ دیکھا
جو مجھ پر گزرتی ہے میں جانتا ہوں
تمہیں کیا خبر تم نے پوچھا نہ دیکھا
جواب خط شوق اتنا ہی لکھ دو
کہ دیکھا بھی خط کھول کر یا نہ دیکھا
مجھے یوں ہی دشمن سمجھنے لگے تم
نہ سوچا نہ سمجھا نہ پوچھا نہ دیکھا
وہ خط پھیر دیتے ہیں یہ لکھ کے خط پر
نہ سمجھیں نہ دیکھیں نہ سمجھا نہ دیکھا
بڑے وعظ والے بڑے پند والے
مجھے آ کے واعظ نے سمجھا نہ دیکھا
قمرؔ غیر تو غیر دشمن تو دشمن
مصیبت میں اپنوں کو اپنا نہ دیکھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.