Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

زیست کیا زیست کا معیار سمجھ لیتے ہیں

مضطر اعظمی

زیست کیا زیست کا معیار سمجھ لیتے ہیں

مضطر اعظمی

MORE BYمضطر اعظمی

    زیست کیا زیست کا معیار سمجھ لیتے ہیں

    کون ہے صاحب کردار سمجھ لیتے ہیں

    ان سے انصاف کی امید نہ رکھے کوئی

    وہ تو معصوموں کو غدار سمجھ لیتے ہیں

    حوصلہ ہو تو کوئی کام بھی دشوار نہیں

    آپ دشوار کو دشوار سمجھ لیتے ہیں

    میرے پاؤں میں کھنکتی ہے جو زنجیر وفا

    لوگ پازیب کی جھنکار سمجھ لیتے ہیں

    صحن‌ گلشن میں ہیں کچھ اہل سیاست موجود

    پھول کو پھول نہیں خار سمجھ لیتے ہیں

    اپنے ہونٹوں میں دبا لیجئے دل کی باتیں

    راز کی بات سمجھ دار سمجھ لیتے ہیں

    آپ کے پاس مداوا ہے دکھوں کا شاید

    آئیے آپ کو غم خوار سمجھ لیتے ہیں

    باندھ کے سر پہ کفن گھر سے نکلنے والے

    گردش وقت کی رفتار سمجھ لیتے ہیں

    پار ہو جاتے ہیں طوفان بلا سے مضطرؔ

    عزم کو آہنی پتوار سمجھ لیتے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے