زیست کیا زیست کا معیار سمجھ لیتے ہیں
زیست کیا زیست کا معیار سمجھ لیتے ہیں
کون ہے صاحب کردار سمجھ لیتے ہیں
ان سے انصاف کی امید نہ رکھے کوئی
وہ تو معصوموں کو غدار سمجھ لیتے ہیں
حوصلہ ہو تو کوئی کام بھی دشوار نہیں
آپ دشوار کو دشوار سمجھ لیتے ہیں
میرے پاؤں میں کھنکتی ہے جو زنجیر وفا
لوگ پازیب کی جھنکار سمجھ لیتے ہیں
صحن گلشن میں ہیں کچھ اہل سیاست موجود
پھول کو پھول نہیں خار سمجھ لیتے ہیں
اپنے ہونٹوں میں دبا لیجئے دل کی باتیں
راز کی بات سمجھ دار سمجھ لیتے ہیں
آپ کے پاس مداوا ہے دکھوں کا شاید
آئیے آپ کو غم خوار سمجھ لیتے ہیں
باندھ کے سر پہ کفن گھر سے نکلنے والے
گردش وقت کی رفتار سمجھ لیتے ہیں
پار ہو جاتے ہیں طوفان بلا سے مضطرؔ
عزم کو آہنی پتوار سمجھ لیتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.