جہان شوق میں سرمایۂ خوشی کیا ہے
جہان شوق میں سرمایۂ خوشی کیا ہے
جو تیرے ساتھ نہ گزرے تو زندگی کیا ہے
سر نیاز جھکانے سے کچھ نہیں ہوتا
خلوص دل نہ ہو شامل تو بندگی کیا ہے
نہ چھیڑ قیصر و کسریٰ کے تذکرے مجھ سے
فقیر مست کے آگے شہنشہی کیا ہے
بنا لیا انہیں سالار قافلہ ہم نے
جنہیں یہ علم نہیں ہے کہ رہبری کیا ہے
لقب ہے نورؔ ہمارا یہ فخر ہے ہم کو
ہمارے سامنے اوقات تیرگی کیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.