Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وہاں کی ریت سے بھی روشنی نکلتی ہے

مبشر سلیم بشر

وہاں کی ریت سے بھی روشنی نکلتی ہے

مبشر سلیم بشر

MORE BYمبشر سلیم بشر

    وہاں کی ریت سے بھی روشنی نکلتی ہے

    خودی کو لینے جہاں بے خودی نکلتی ہے

    دھمال کرتا ہوں اس کو تلاشتا ہوں میں

    مری تلاش میں جب آگہی نکلتی ہے

    یہ کیسا تجھ سے تعلق جڑا مرے ہمدم

    کروں نہ یاد اگر جاں مری نکلتی ہے

    سخن کے پھول مہکتے ہیں بزم جاناں میں

    ہمارے شعر سے جب تازگی نکلتی ہے

    ہمارے بچوں کے چہرے اترنے لگتے ہیں

    ہماری جیب سے جب خامشی نکلتی ہے

    عبث خیال ہی بنتے نہیں یہ اہل سخن

    قلم کی نوک سے اک روشنی نکلتی ہے

    جہاں پہ عشق کی بازی میں ہار جاتا ہوں

    منانے جشن وہاں بے بسی نکلتی ہے

    ہمارے شعر کو سادہ سمجھ رہے ہیں وہ

    ہماری بات مگر منطقی نکلتی ہے

    ہمارے پرس میں سکے فقط خیالوں کے

    ہماری جیب سے بھی شاعری نکلتی ہے

    ملیں جو منزلیں یوں کاروان چاہت کی

    فریب دے کے ہمیں زندگی نکلتی ہے

    غریب شہر تو تنہا کبھی نہیں روتا

    گلے لگانے اسے مفلسی نکلتی ہے

    سمندروں کی کہانی بہت سنی میں نے

    مجھے پتہ ہے کہاں جل پری نکلتی ہے

    ہمارے لہجے میں ہو بات تو بشرؔ صاحب

    دکھوں کے دیس میں بن کر خوشی نکلتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے