وہ اپنا نام لکھے کیوں ہمارے نام کے ساتھ
وہ اپنا نام لکھے کیوں ہمارے نام کے ساتھ
اسے کہو کہ رکھے کام اپنے کام کے ساتھ
سبق پڑھایا یہ کس نے اسے خدا جانے
کہ اب تو نام بھی لیتا ہے احترام کے ساتھ
اڑے زمیں سے تو ہم آسمان چھو آئے
ہمیں شمار کرے گا تو خاص و عام کے ساتھ
ہم ایسے لازم و ملزوم ہیں مرے محبوب
کہ جیسے صبح کا رشتہ ہو ایک شام کے ساتھ
گئی ہیں گھر کی سبھی رونقیں کہاں قیصرؔ
نہ کوئی در پہ کھڑا ہے نہ کوئی بام کے ساتھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.