نہ سیم و زر سے یہ چولا بدل فقیرانہ
نہ سیم و زر سے یہ چولا بدل فقیرانہ
تو اغنیا سے کوئی چال چل فقیرانہ
اسے بتاؤ کہ جوگی کسی کا میت نہیں
اسے سناؤ یہ ضرب المثل فقیرانہ
سخی ملے جو کہیں پر تو آنکھ نیچی کر
بخیل دے جو دکھائی اچھل فقیرانہ
کوئی خیال کوئی یاد اپنے ساتھ نہ لے
ہے نا امید تو گھر سے نکل فقیرانہ
رہ طلب میں ملی قیسؔ کے سوا کس کو
مسافرانہ جوانی اجل فقیرانہ
سوال کرتے ہیں لیکن بڑے غرور کے ساتھ
مزاج ان کا بھی ہے آج کل فقیرانہ
کرائیں اپنی زیارت ہی اولیا کی طرح
ملا جو کرتے تھے پہلے پہل فقیرانہ
ہمارے دوست کہ کرسی نشیں ہوئے سیدؔ
انہیں کو ہم نے سنائی غزل فقیرانہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.