میں دھمکیوں بھرا پنجہ مروڑ سکتی ہوں
میں دھمکیوں بھرا پنجہ مروڑ سکتی ہوں
مجھے بھی حق ہے کہ میں تجھ کو چھوڑ سکتی ہوں
طلاق نام کی لعنت ہے تو خلع بھی ہے
میں اپنی مرضی سے ہر عہد توڑ سکتی ہوں
جناب لائق تعظیم تو بنیں پہلے
میں اپنا سر اسی چوکھٹ پہ پھوڑ سکتی ہوں
تمہیں تو صرف کمانے کی فکر کرنی ہے
مجھے شعور ہے میں کیسے جوڑ سکتی ہوں
رہ سفر میں رکاوٹ اگر ہوئی خوشبوؔ
خود اپنی مرضی سے قدموں کو موڑ سکتی ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.