Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دل طلبگار تماشائے محبت بھی نہیں

محمد اویس ماہی

دل طلبگار تماشائے محبت بھی نہیں

محمد اویس ماہی

MORE BYمحمد اویس ماہی

    دل طلبگار تماشائے محبت بھی نہیں

    دشت میں اور خرابے کی ضرورت بھی نہیں

    شام پڑتے ہی چلے جاتا ہوں خلوت گہ میں

    مجھ کو حالانکہ کوئی ذوق عبادت بھی نہیں

    یہ تقاضا بھی ہے اس کا کہ میں موتی لاؤں

    اور دریا میں اترنے کی اجازت بھی نہیں

    کتنا بے بس ہوں تجھے رخصت مطلق دے دی

    کتنا بے خوف ہوں احساس ندامت بھی نہیں

    یہ ہی سچ بات کہ تو دل میں نہیں رہتا اب

    جھوٹ کہنے کی مجھے خیر سے عادت بھی نہیں

    میرے سورج ترے جانے سے خسارے ہوئے دو

    روشنی بھی نہ رہی اور حرارت بھی نہیں

    کوئی توہین کرے میری یہ برداشت نہیں

    یہ الگ بات کہ میں لائق مدحت بھی نہیں

    جس کی خاطر میں دلیلیں ہی دیے جاتا ہوں

    حاصل اس شخص کی اک پل کی حمایت بھی نہیں

    شام ہوتے ہی ترے گھر کی طرف دیکھتا ہوں

    مجھ پرندے کی بدل پائی یہ عادت بھی نہیں

    میری اوقات کہاں اتنی کہ تو مجھ کو ملے

    ویسے اوقات سے بڑھ کر مجھے حاجت بھی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے