دل طلبگار تماشائے محبت بھی نہیں
دل طلبگار تماشائے محبت بھی نہیں
دشت میں اور خرابے کی ضرورت بھی نہیں
شام پڑتے ہی چلے جاتا ہوں خلوت گہ میں
مجھ کو حالانکہ کوئی ذوق عبادت بھی نہیں
یہ تقاضا بھی ہے اس کا کہ میں موتی لاؤں
اور دریا میں اترنے کی اجازت بھی نہیں
کتنا بے بس ہوں تجھے رخصت مطلق دے دی
کتنا بے خوف ہوں احساس ندامت بھی نہیں
یہ ہی سچ بات کہ تو دل میں نہیں رہتا اب
جھوٹ کہنے کی مجھے خیر سے عادت بھی نہیں
میرے سورج ترے جانے سے خسارے ہوئے دو
روشنی بھی نہ رہی اور حرارت بھی نہیں
کوئی توہین کرے میری یہ برداشت نہیں
یہ الگ بات کہ میں لائق مدحت بھی نہیں
جس کی خاطر میں دلیلیں ہی دیے جاتا ہوں
حاصل اس شخص کی اک پل کی حمایت بھی نہیں
شام ہوتے ہی ترے گھر کی طرف دیکھتا ہوں
مجھ پرندے کی بدل پائی یہ عادت بھی نہیں
میری اوقات کہاں اتنی کہ تو مجھ کو ملے
ویسے اوقات سے بڑھ کر مجھے حاجت بھی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.