یہ مہکی مہکی فضائیں حسیں حسیں سائے
یہ مہکی مہکی فضائیں حسیں حسیں سائے
مرے چمن کو کہیں پھر نظر نہ لگ جائے
ہر ایک گل کا مقدر ہے کھل کے مرجھانا
یہ راز دیدۂ شبنم کو کون سمجھائے
خزاں کے دور میں کتنے مہیب ہوتے ہیں
قریب شام وہ گلشن میں پھیلتے سائے
چمن میں جشن بہاراں کی دھوم ہے لیکن
چھپے ہیں آج بھی صیاد دام پھیلائے
سنا ہے آمد فصل بہار ہے مضطرؔ
خدا کرے کہ یہ موسم چمن کو راس آئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.