داغ حسرت شمار کرتے ہیں
داغ حسرت شمار کرتے ہیں
ہم ستاروں سے پیار کرتے ہیں
منتظر کل بھی تھے کسی کے ہم
آج بھی انتظار کرتے ہیں
کتنے سادہ ہیں آج تک ہم لوگ
آپ کا اعتبار کرتے ہیں
اب خزاں میں بھی تیرے دیوانے
پیرہن تار تار کرتے ہیں
کارواں بھی انہیں کو ملتا ہے
جو تلاش غبار کرتے ہیں
ہم قفس میں بھی رہ کے اے مضطرؔ
آرزوئے بہار کرتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.