کس حسن اہتمام سے یہ راز ہے کہ ہے
کس حسن اہتمام سے یہ راز ہے کہ ہے
خاموش بھی ہے اور وہی آواز ہے کہ ہے
عاجز ہوئے تو کیا ہوا کچھ ہوگی مصلحت
تقویم پہ جو اپنی ہمیں ناز ہے کہ ہے
بے خود ہی آ گیا ہوں خدا اور خودی ہے بیچ
افتاد ہے سو ہے پئے ایجاز ہے کہ ہے
نغمہ گران عصر تخیل کا کیا بنا
اظہار کا غبار سخن ساز ہے کہ ہے
سنجیدگی وجوب مجھے طرز واجبی
انداز دل فریب پس انداز ہے کہ ہے
سوچا ہے اب یہ میں نے کہ سوچوں میں گم رہوں
انجام جو بھی ہو مگر آغاز ہے کہ ہے
کار جہاں کا بوجھ بھی سلمانؔ اپنے سر
اور سوچ اپنی مائل پرواز ہے کہ ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.