Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دریا تھا مگر ایسی روانی میں نہیں تھا

محمد سلیم طاہر

دریا تھا مگر ایسی روانی میں نہیں تھا

محمد سلیم طاہر

MORE BYمحمد سلیم طاہر

    دریا تھا مگر ایسی روانی میں نہیں تھا

    خود سر میں کبھی اتنا جوانی میں نہیں تھا

    ہر واقعہ منسوب تھا میری تگ و دو سے

    لیکن مرا کردار کہانی میں نہیں تھا

    یکتائی نے قیمت مری منہ مانگی بڑھا دی

    مہنگا میں کبھی اتنا گرانی میں نہیں تھا

    میں شہر کی دیوار سے لگ کر نہیں بیٹھا

    رکنا تو مری نقل مکانی میں نہیں تھا

    خاموشی کے ہر وصف سے واقف تھا مرا ظرف

    مشاق مگر چرب زبانی میں نہیں تھا

    کرنا تھا اسے میں نے کسی ضبط کا پابند

    یہ یاد مجھے یاد دہانی میں نہیں تھا

    ہر نقل کبھی اصل سے بہتر نہیں ہوتی

    یوسف کا مزہ یوسف ثانی میں نہیں تھا

    کیوں تلخ ہوا ہے مرا یہ لہجۂ شیریں

    اتنا تو نمک آنکھ کے پانی میں نہیں تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے