دریا تھا مگر ایسی روانی میں نہیں تھا
دریا تھا مگر ایسی روانی میں نہیں تھا
خود سر میں کبھی اتنا جوانی میں نہیں تھا
ہر واقعہ منسوب تھا میری تگ و دو سے
لیکن مرا کردار کہانی میں نہیں تھا
یکتائی نے قیمت مری منہ مانگی بڑھا دی
مہنگا میں کبھی اتنا گرانی میں نہیں تھا
میں شہر کی دیوار سے لگ کر نہیں بیٹھا
رکنا تو مری نقل مکانی میں نہیں تھا
خاموشی کے ہر وصف سے واقف تھا مرا ظرف
مشاق مگر چرب زبانی میں نہیں تھا
کرنا تھا اسے میں نے کسی ضبط کا پابند
یہ یاد مجھے یاد دہانی میں نہیں تھا
ہر نقل کبھی اصل سے بہتر نہیں ہوتی
یوسف کا مزہ یوسف ثانی میں نہیں تھا
کیوں تلخ ہوا ہے مرا یہ لہجۂ شیریں
اتنا تو نمک آنکھ کے پانی میں نہیں تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.