انہیں کم ہنر نہ گمان کر وہ دکھائی دیں جو رمیدہ بھی
انہیں کم ہنر نہ گمان کر وہ دکھائی دیں جو رمیدہ بھی
یہی بھولے بسرے سے لوگ ہیں غم زندگی کے چنیدہ بھی
میں ازل سے جاری زبور ہوں میں عرب کا عجمی ظہور ہوں
مجھے کم سے کم وہ پڑھے کہ جو ہو شعور و شعر چشیدہ بھی
تری آرزو نے نواز دی مجھے میری ذات کی جستجو
تری آرزو نے کیا مجھے اسی جستجو سے رہیدہ بھی
اسی اک نظر کے ہیں منتظر جو ہو آشنائے رموز غم
مری چشم اشک چشیدہ بھی مرا قلب رنج گزیدہ بھی
یہی رہگزر کی جو خاک ہے یہ سرشت میں کوئی چاک ہے
یہیں بنتے مٹتے ہیں روز و شب کئی نقش ہائے کشیدہ بھی
کوئی قول بھی کوئی فعل بھی نہیں اس خیال سے بے نیاز
ہمیں لکھ رہا ہے توجہ سے کوئی فردا نامی جریدہ بھی
نئے مستقر سے بدل گئی نئے انہماک میں ڈھل گئی
خبر تحیر عشق سن مری عقل عمر رسیدہ بھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.