اس درجہ حقیقت آشنا ہوں
اس درجہ حقیقت آشنا ہوں
افسانہ طراز بن گیا ہوں
کس کس نے پڑھا مگر نہ سمجھا
میں ایسا ہی حرف مدعا ہوں
نفرت کی نظر سے جو نہ دیکھے
حیرت سے اسے میں دیکھتا ہوں
میں سہل پسند آدمی ہوں
لکھتا وہ نہیں جو سوچتا ہوں
میں چشم حیات کی مژہ پر
آنسو کی طرح رکا ہوا ہوں
پھرتا ہوں چمن چمن مگر میں
شبنم کی مثال ٹھیرتا ہوں
باہر سے ہوں ایک تودۂ برف
اندر سے مگر سلگ رہا ہوں
میرے نہ قریب سے گزرنا
میں شاخ شجر ہوں ٹوٹتا ہوں
ہر شخص کو ہے تلاش میری
ہر شخص کو راہ میں ملا ہوں
کوئی تو مجھے مری خبر دے
مدت سے میں خود سے لاپتا ہوں
تحسینؔ کہاں گئے ہیں سب لوگ
میں راہ میں کیوں کھڑا ہوا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.