Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جنوں والوں سے ہرگز دشت پیمائی نہ جائے گی

خالق عبداللہ

جنوں والوں سے ہرگز دشت پیمائی نہ جائے گی

خالق عبداللہ

MORE BYخالق عبداللہ

    جنوں والوں سے ہرگز دشت پیمائی نہ جائے گی

    ہزاروں شہر رکھ دو ان کی تنہائی نہ جائے گی

    ہمیشہ پیار کا بادل ہی بن کر میں تو برسا ہوں

    فضا جو بھی ہو مجھ سے آگ برسائی نہ جائے گی

    تمہیں جانا ہے جاؤ توڑ دو سب پیار کے رشتے

    تمھارے ساتھ تو اس گھر کی انگنائی نہ جائے گی

    پرندوں کو فضا میں روک لیں گے روکنے والے

    عقابوں کو مگر زنجیر پہنائی نہ جائے گی

    میں بوسہ ریت کا لے کر ہوا ہوں پھر تر و تازہ

    مرے چہرے سے ہرگز اب یہ رعنائی نہ جائے گی

    ارے ویرانیو جاؤ ٹھکانا اور ہی ڈھونڈو

    یہ وہ آنکھیں ہیں جن کی خواب آرائی نہ جائے گی

    کسی کی یاد کی ہے چاندنی چھٹکی ہوئی گھر میں

    جھٹک دو لاکھ ذہنوں سے یہ ہرجائی نہ جائے گی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے