جنوں والوں سے ہرگز دشت پیمائی نہ جائے گی
جنوں والوں سے ہرگز دشت پیمائی نہ جائے گی
ہزاروں شہر رکھ دو ان کی تنہائی نہ جائے گی
ہمیشہ پیار کا بادل ہی بن کر میں تو برسا ہوں
فضا جو بھی ہو مجھ سے آگ برسائی نہ جائے گی
تمہیں جانا ہے جاؤ توڑ دو سب پیار کے رشتے
تمھارے ساتھ تو اس گھر کی انگنائی نہ جائے گی
پرندوں کو فضا میں روک لیں گے روکنے والے
عقابوں کو مگر زنجیر پہنائی نہ جائے گی
میں بوسہ ریت کا لے کر ہوا ہوں پھر تر و تازہ
مرے چہرے سے ہرگز اب یہ رعنائی نہ جائے گی
ارے ویرانیو جاؤ ٹھکانا اور ہی ڈھونڈو
یہ وہ آنکھیں ہیں جن کی خواب آرائی نہ جائے گی
کسی کی یاد کی ہے چاندنی چھٹکی ہوئی گھر میں
جھٹک دو لاکھ ذہنوں سے یہ ہرجائی نہ جائے گی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.