ہے سب سے جدا فکر کی پرواز ہماری
ہے سب سے جدا فکر کی پرواز ہماری
سنتا ہے غزل حلقۂ شیراز ہماری
افلاک کے ہر بھید سے ہو جائے گا واقف
مانے گا اگر بات وہ شہباز ہماری
صحرائے اذیت کی بنا ہم نے رکھی تھی
دنیاے جنوں دیکھیے ممتاز ہماری
جس نے بھی سنی مست ہوا رقص میں گم ہے
پرکیف ہے پرسوز ہے آواز ہماری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.