کوئی مسرت پل دو پل کی مہلت سے مل جاتی ہے
کوئی مسرت پل دو پل کی مہلت سے مل جاتی ہے
اور مصیبت جب ملتی ہے فرصت سے مل جاتی ہے
اس کے آگے سر ہی جھکانا ہے تو سر بے لوث جھکا
جنت ونت تو ماں باپ کی خدمت سے مل جاتی ہے
پھینک یہ بستہ پھاڑ کتابیں چھوڑ پڑھائی کرکٹ کھیل
ڈگری کی کیا فکر کہ ڈگری رشوت سے مل جاتی ہے
دولت کے بل بوتے پر خود کو دانشور مت سمجھو
دولت لاٹوں بوروں کو بھی قسمت سے مل جاتی ہے
کچھ تو ہم اشعار انوکھے کہتے ہیں ساحل سحریؔ
اور ہمیں کچھ داد ہماری شہرت سے مل جاتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.