ترے پاس آنے کو جی چاہتا ہے
ترے پاس آنے کو جی چاہتا ہے
کہیں اب نہ جانے کو جی چاہتا ہے
گلہ تم کرو اور جی بھر کے روٹھو
تمہیں پھر منانے کو جی چاہتا ہے
مرے پاس بیٹھو مرا حال پوچھو
تمہیں سب بتانے کو جی چاہتا ہے
جہاں آ کے بیٹھے وہ پہلو بہ پہلو
وہاں سے نہ جانے کو جی چاہتا ہے
در میکدہ اب جہاں بھی میں دیکھوں
وہیں لڑکھڑانے کو جی چاہتا ہے
سو جس جس نے کی ہم سے وعدہ خلافی
انہیں اب بھلانے کو جی چاہتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.