Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ترے پاس آنے کو جی چاہتا ہے

جون صاحب بریلوی

ترے پاس آنے کو جی چاہتا ہے

جون صاحب بریلوی

MORE BYجون صاحب بریلوی

    ترے پاس آنے کو جی چاہتا ہے

    کہیں اب نہ جانے کو جی چاہتا ہے

    گلہ تم کرو اور جی بھر کے روٹھو

    تمہیں پھر منانے کو جی چاہتا ہے

    مرے پاس بیٹھو مرا حال پوچھو

    تمہیں سب بتانے کو جی چاہتا ہے

    جہاں آ کے بیٹھے وہ پہلو بہ پہلو

    وہاں سے نہ جانے کو جی چاہتا ہے

    در میکدہ اب جہاں بھی میں دیکھوں

    وہیں لڑکھڑانے کو جی چاہتا ہے

    سو جس جس نے کی ہم سے وعدہ خلافی

    انہیں اب بھلانے کو جی چاہتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے