اکٹھا خود کو کرے یا کہیں بکھر جائے
اکٹھا خود کو کرے یا کہیں بکھر جائے
بتاؤ دل سے نکالا ہوا کدھر جائے
علاج دل زدگاں میں نہ کیجیے تاخیر
یہ درد ایسا نہ ہو حد سے ہی گزر جائے
تو اپنا حق تو جتاتا ہے زندگی پہ مری
یہ تتلی قید میں آ کر نہ تیری مر جائے
میں مثل سایہ ترے ساتھ ساتھ چلتی رہوں
تو رہ گذار طلب میں جدھر جدھر جائے
بتائیے میں اسے بے وفا کہوں نہ کہوں
جو عہد عشق کرے اور پھر مکر جائے
اگر میں اس کی محبت کے آئنے میں رہوں
مجھے یقیں ہے مری زندگی سنور جائے
چلی بھی جائے اگر دولت دگر کوئی
نہ میرے ہاتھ سے یہ حرف معتبر جائے
اگر وہ ساتھ نبھانے سے ڈر رہا ہے مرا
اسے کہو کہ بہت ہو چکا مکر جائے
لرز سی جاتی ہوں یہ سوچتی ہوں جب بھی عمودؔ
مرے حسیں کا کہیں مجھ سے دل نہ بھر جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.