Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اکٹھا خود کو کرے یا کہیں بکھر جائے

عمود ابرار احمد

اکٹھا خود کو کرے یا کہیں بکھر جائے

عمود ابرار احمد

MORE BYعمود ابرار احمد

    اکٹھا خود کو کرے یا کہیں بکھر جائے

    بتاؤ دل سے نکالا ہوا کدھر جائے

    علاج دل زدگاں میں نہ کیجیے تاخیر

    یہ درد ایسا نہ ہو حد سے ہی گزر جائے

    تو اپنا حق تو جتاتا ہے زندگی پہ مری

    یہ تتلی قید میں آ کر نہ تیری مر جائے

    میں مثل سایہ ترے ساتھ ساتھ چلتی رہوں

    تو رہ گذار طلب میں جدھر جدھر جائے

    بتائیے میں اسے بے وفا کہوں نہ کہوں

    جو عہد عشق کرے اور پھر مکر جائے

    اگر میں اس کی محبت کے آئنے میں رہوں

    مجھے یقیں ہے مری زندگی سنور جائے

    چلی بھی جائے اگر دولت دگر کوئی

    نہ میرے ہاتھ سے یہ حرف معتبر جائے

    اگر وہ ساتھ نبھانے سے ڈر رہا ہے مرا

    اسے کہو کہ بہت ہو چکا مکر جائے

    لرز سی جاتی ہوں یہ سوچتی ہوں جب بھی عمودؔ

    مرے حسیں کا کہیں مجھ سے دل نہ بھر جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے