ہر صبح اٹھ رہی ہوں قیامت گزار کے
ہر صبح اٹھ رہی ہوں قیامت گزار کے
دن حشر ہو گئے ہیں ترے انتظار کے
ہوتی ہے سب کو جیت کی خواہش متاع جاں
ہم کو مگر برا نہ لگا تجھ سے ہار کے
ساری رفاقتیں مری ساری محبتیں
اک شخص جا رہا ہے مرے منہ پہ مار کے
کیوں جا رہے ہو پھر سے اسی بے وفا کے پاس
کیا ہوش اڑ گئے ہیں دل ہوشیار کے
کمرے کی اونگھتی ہوئی کھڑکی پہ آج دھوپ
جیسے کہ آ رہی ہو ترا روپ دھار کے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.