بلا عنواں فسانے ہو رہے ہیں
بلا عنواں فسانے ہو رہے ہیں
بڑے دلکش ترانے ہو رہے ہیں
نہ اب وہ ہیں نہ ان کی یاد باقی
انہیں دیکھے زمانے ہو رہے ہیں
چراغاں کر گئے جو میری راتیں
انہیں کے دن سہانے ہو رہے ہیں
ہم آ جاتے مگر ہم کیسے آتے
بہانے یہ پرانے ہو رہے ہیں
نظامالدیں کی بستی آ رہی ہے
کہ خسرو کے فسانے ہو رہے ہیں
ذرا ان کی سنو باتیں کہ واصفؔ
ٹھکانوں پر نشانے ہو رہے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.