عالم کچھ اور ہے دل بے اختیار کا
عالم کچھ اور ہے دل بے اختیار کا
دیکھیں کہاں گزرتا ہے موسم بہار کا
جس نے فریب کھایا نہ ہو اعتبار کا
سمجھے گا لطف کیا وہ غم انتظار کا
میں اپنے آشیاں میں لگا دوں گا خود ہی آگ
اٹھا اگر سوال چمن کے وقار کا
کافی ہے تیری یاد رفاقت کے واسطے
احسان کیوں اٹھائیں کسی غم گسار کا
جو کہکشاں کے نام سے روشن ہے چرخ پر
کیا کہئے راستہ ہے وہ کس کے دیار کا
جس کو ہے یہ خبر کہ ہے غم جزو زندگی
کیوں شکوہ سنج ہو وہ غم روزگار کا
سمجھا کیا زمانہ جسے اپنی داستاں
افسانہ تھا ظفرؔ وہ دل سوگوار کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.