لہو ابل کے بہاروں میں رنگ بھرنے لگا
لہو ابل کے بہاروں میں رنگ بھرنے لگا
افق کی کوکھ سے سورج نیا ابھرنے لگا
غم و نشاط کے میلے لگے ہیں سینوں میں
اک عہد پیدا ہوا ہے اک عہد مرنے لگا
کسی کا بچ کے نکلنا محال ہے اب تو
اسی گلی سے ہر اک راستہ گزرنے لگا
جنوں فزا ہوئی پھر سنگ باریٔ طفلاں
بدن سے شیشے کا ہر پیرہن اترنے لگا
عبث ہے کل کے لیے تم کو پتھروں کی تلاش
جو دل پہ زخم لگا ہے کب آج بھرنے لگا
کسی کو آئنہ خانوں میں کیا پناہ ملے
اجل کی راہ سے ہر راستہ گزرنے لگا
گلوں کی سیج کو قدموں سے روند کر فارغؔ
زمانہ حال کے کانٹوں پہ پاؤں دھرنے لگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.