محفل میں بیٹھیے تو لطیفے سنائیے
محفل میں بیٹھیے تو لطیفے سنائیے
یوں اپنے اپنے درد ہنسی میں چھپائیے
کیونکر رسوم دہر کو خاطر میں لائیے
کب تک ہوا کے رخ پہ پتنگیں اڑائیے
کمرے چمک رہے ہیں اندھیری ہے ہر گلی
یہ قید تو نہ روشنیوں پر لگائیے
کیا آرزو کریں گے تری آرزو کے بعد
سورج ہو سامنے تو دئیے کیا جلائیے
آنکھوں میں آفتاب کی کرنیں سمیٹ کر
جب رات آئے چاروں طرف پھیل جائیے
دو چار آشنا ہی نہیں کم بلائے جاں
روحیؔ کسی سے ربط یہاں کیا بڑھائیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.