جب ضرورت تھی مجھے حوصلہ افزائی کی
جب ضرورت تھی مجھے حوصلہ افزائی کی
سازشیں کیں مرے احباب نے پسپائی کی
آ گئیں راس فضائیں مجھے تنہائی کی
اب ضرورت ہی نہیں انجمن آرائی کی
آج آنکھوں نے سر بزم بھرم توڑ دیا
شہر میں ہو گئی تشہیر شناسائی کی
کوئی ٹھہراؤ کبھی جن کی طبیعت میں نہ تھا
داد پاتے ہیں وہی لوگ شکیبائی کی
دل کے زخموں کو یہ احسان گوارا ہی نہیں
آپ زحمت نہ کریں میری مسیحائی کی
وہی بہتر ہے کہے جس کو زمانہ بہتر
عادت اچھی نہیں ہے دوست خود آرائی کی
اس نے اک بار کہا تھا مجھے خاموش رہو
پھر کہاں میں نے کبھی جرأت گویائی کی
طرز بدلا نہ اصولوں سے ہٹے ہم اظہرؔ
ورنہ ہر دور میں لوگوں نے جبیں سائی کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.