نہ ملاؤ ہم سے آنکھیں کوئی تیر چل نہ جائے
نہ ملاؤ ہم سے آنکھیں کوئی تیر چل نہ جائے
کہیں ساتھ حسرتوں کے مرا دم نکل نہ جائے
مرے دل میں رہنے والے ذرا ہوشیار رہنا
ترے رخ کی تابشوں سے یہ مکان جل نہ جائے
ہوئی صبح روتے روتے تو خدارا اب تو آ جا
کہیں بہتے آنسوؤں میں یہ حیات ڈھل نہ جائے
مری شاعری سلامت مری خامشی مبارک
تری اک نظر سے لیکن یہ سماں بدل نہ جائے
وہ منیرؔ وصل کی شب یہی کہہ رہے ہیں پیہم
کہیں چھپ نہ جائیں تارے کہیں رات ڈھل نہ جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.