قابل فخر مرا چاک گریباں ہو جائے
قابل فخر مرا چاک گریباں ہو جائے
داغ دامن کا جو ماتھے پہ نمایاں ہو جائے
ناخدا کیوں نہ خدا سے بھی ہراساں ہو جائے
موج تو موج ہے جب قطرہ بھی طوفاں ہو جائے
مہر سے تیرے زمانے میں چراغاں ہو جائے
ماہ کامل مرا داغ غم عصیاں ہو جائے
لذت زیست ہے غم تیری عطا کے قرباں
میں تو مر جاؤں اگر درد کا درماں ہو جائے
کچھ طلب کرتے بھی اب ڈرتا ہوں اے دست عطا
پرزے پرزے نہ مری آس کا داماں ہو جائے
ایک اللہ کے بندے کو خدا مان لیا
یا الٰہی یہ مرا کفر بھی ایماں ہو جائے
پار لگ جائے سفینہ غم ہستی کا منیرؔ
دل کی کشتی کا جو اللہ نگہباں ہو جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.