جانے کیا تھا اور کیا کہتے رہے
جانے کیا تھا اور کیا کہتے رہے
حادثے کو واقعہ کہتے رہے
جل گیا گھر تب ہوا معلوم یہ
ایک شعلے کو دیا کہتے رہے
آنکھ والوں میں بصارت تھی کہاں
سنگ کو بھی آئنہ کہتے رہے
سر کی عظمت سے تھا جن کو احتراز
آدمی کو بھی خدا کہتے رہے
جانے کیا تھی مصلحت غنچے تمام
اک بگولے کو صبا کہتے رہے
جانے کیا تھیں ضبط کی مجبوریاں
ہر ستم کو سانحہ کہتے رہے
جس کے ہونٹوں پر صداقت تھی علیؔ
لوگ اس کو باؤلا کہتے رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.