نشاط صبح بہار چہرہ گھٹائیں زلفیں خمار آنکھیں
نشاط صبح بہار چہرہ گھٹائیں زلفیں خمار آنکھیں
کمال مستی نظر کی شوخی نظر پہ میری نثار آنکھیں
میں تجھ سے پہلے حدود امکاں میں ایک انکار کی صدا تھا
مرے لیے تو فقط ہیں تیری دلیل پروردگار آنکھیں
تجھے اے شیخ حرم خبر کیا گراں نہ گزرے تو عرض کر دوں
کہ زندگی تو فضول شئے ہے نہ دیں کسی کی جو مار آنکھیں
کہاں وہ آنکھیں کہ نوریوں نے جنہیں نصاب جمال جانا
کہاں ز شوق جمال خوباں یہ حسرتوں کا مزار آنکھیں
کہیں تو آنکھوں کی ایک جنبش سے نظم کون و مکاں ہے برہم
کہیں پہ بے اختیار و بے بس کہیں غریب الدیار آنکھیں
نظر لگے کیوں کسی کی مجھ کو میں اس کی آنکھوں کو سوچتا ہوں
مجھے نہیں ڈر کہ دو جہاں میں مرا تو ہیں وہ حصار آنکھیں
سر نیاز سخن جھکا ہے قلم جھکا ہے دہن جھکا ہے
کنار نہر فرات اجڑیں خدا کا تھیں جو وقار آنکھیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.