زیادہ کم کا کہاں وہ حساب رکھتا ہے
زیادہ کم کا کہاں وہ حساب رکھتا ہے
اجالا سب کے لئے ماہتاب رکھتا ہے
وہ دیکھ لیتا ہے ہر شے کو اپنی آنکھوں سے
اور اپنے حسن کو زیر نقاب رکھتا ہے
جو خط کو پڑھ لو معطر دماغ ہو جائے
وہ حرف حرف میں بوئے گلاب رکھتا ہے
یہ اور بات ہے خاموش ہے وہ مصلحتاً
جو ہر سوال کا اچھا جواب رکھتا ہے
تم اس کے رنج کو کس طرح جان پاؤ گے
سجا کے رخ پہ جو دل کی کتاب رکھتا ہے
بغیر اس کی اجازت کے چھو نہیں سکتے
وہ دانے دانے کا اپنے حساب رکھتا ہے
اسی کو ملتی ہے تعبیر نو کی شادابی
جو اپنی آنکھوں میں خوش رنگ خواب رکھتا ہے
کوئی شمار نہیں اس کا اس زمانے میں
جو گفتگو میں ظفرؔ جی جناب رکھتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.