Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

زیادہ کم کا کہاں وہ حساب رکھتا ہے

ظفر مرزاپوری

زیادہ کم کا کہاں وہ حساب رکھتا ہے

ظفر مرزاپوری

MORE BYظفر مرزاپوری

    زیادہ کم کا کہاں وہ حساب رکھتا ہے

    اجالا سب کے لئے ماہتاب رکھتا ہے

    وہ دیکھ لیتا ہے ہر شے کو اپنی آنکھوں سے

    اور اپنے حسن کو زیر نقاب رکھتا ہے

    جو خط کو پڑھ لو معطر دماغ ہو جائے

    وہ حرف حرف میں بوئے گلاب رکھتا ہے

    یہ اور بات ہے خاموش ہے وہ مصلحتاً

    جو ہر سوال کا اچھا جواب رکھتا ہے

    تم اس کے رنج کو کس طرح جان پاؤ گے

    سجا کے رخ پہ جو دل کی کتاب رکھتا ہے

    بغیر اس کی اجازت کے چھو نہیں سکتے

    وہ دانے دانے کا اپنے حساب رکھتا ہے

    اسی کو ملتی ہے تعبیر نو کی شادابی

    جو اپنی آنکھوں میں خوش رنگ خواب رکھتا ہے

    کوئی شمار نہیں اس کا اس زمانے میں

    جو گفتگو میں ظفرؔ جی جناب رکھتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے