سجا سجا کے رکھا جن کو آئنوں کی طرح
سجا سجا کے رکھا جن کو آئنوں کی طرح
گرے نظر سے تو بکھرے ہیں کرچیوں کی طرح
بجھے بجھے ہیں پرانی محبتوں کے گلاب
صبا گزر گئی بے مہر ساعتوں کی طرح
بکھر گئے تو سمیٹا نہ زندگی نے ہمیں
نکھر گئے تو دمکتے ہیں موتیوں کی طرح
نہیں کسی سے شکایت کہ بارہا ہم نے
خود اپنے گھر کو جلایا ہے مشعلوں کی طرح
یہی مزاج ہے اپنا کسی کا دل نہ دکھے
جدائیوں کو بھی چاہا ہے قربتوں کی طرح
تری طلب کا دل آویز حادثہ ہم نے
بھلا دیا ہے کئی اور حادثوں کی طرح
جو دل کا نور نظر کا سرور تھے وہ لوگ
ہمیں سے پیش اب آئے ہیں دشمنوں کی طرح
فلک نشینو زمیں کی طرف کبھی دیکھو
ہیں پستیاں بھی مقدس بلندیوں کی طرح
بس اک اچٹتی نظر اس طرف بھی اے شہ حسن
جو راستوں میں کھڑے ہیں مسافروں کی طرح
کوئی قریب تو ہے جس کے فیض سے محسنؔ
خیال ذہن میں بجتے ہیں گھنگھرؤں کی طرح
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.