ہوتی ہے زندگی سے شکایت کبھی کبھی
ہوتی ہے زندگی سے شکایت کبھی کبھی
یاد آتی ہے کسی کی رفاقت کبھی کبھی
ویسے تو ہم نہیں ہیں تری بات کے خلاف
مر جاتی ہے مگر یہ شرافت کبھی کبھی
اتنا نہ خود کو دیکھ زمانے کی آنکھ سے
دے دے کچھ اپنی آنکھ کو زحمت کبھی کبھی
یوں تو رکھا ہے درد کو سینے کے پاس پاس
ہوتی ہے پھر بھی درد سے وحشت کبھی کبھی
کوئی تو بات چھیڑ تو اپنے رقیب سے
بہتر ہے دشمنی سے محبت کبھی کبھی
شرما کے پھر سے دیکھ ہمارے قریب آ
ملتی ہے دل لگی میں سہولت کبھی کبھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.