لکھیے سیاہیٔ غم دوراں سے اپنا نام (ردیف .. ن)
لکھیے سیاہیٔ غم دوراں سے اپنا نام
پڑھیے کہ ہم جبین سحر پر رقم بھی ہیں
کیسے ہمیں مؤرخ تاریخ دور نو
سمجھایئے کہ ہاتھ ہمارے قلم بھی ہیں
یہ بھی کہیں کہ ہم کو خوشی بھی ہوئی نصیب
یہ بھی لکھیں کہ کشتۂ تیغ ستم بھی ہیں
یہ بھی غلط کہ زہر پیا ہے تمام عمر
یہ بھی بجا کہ واقف صد کیف و کم بھی ہیں
سچ ہے کہ والدین نے دکھ بھی بہت دئے
حق ہے کہ والدین کے لطف و کرم بھی ہیں
دیکھو تو دوستوں کی ہیں تشہیر کا سبب
سمجھو تو دوستوں کی انا کا بھرم بھی ہیں
مانو تو ہر نگاہ ہے اپنی خدا پرست
پوجو تو اپنے ذہن میں لاکھوں صنم بھی ہیں
پھیلی ہے ہم سے جبر و تشدد کی دھوپ بھی
ہم اس زمیں پہ سایۂ ابر کرم بھی ہیں
بے خانماں ہیں شہر میں عزت نہیں مگر
مسند نشین قصر وقار و حشم بھی ہیں
یہ لفظ اپنے دور کی تاریخ ہیں کہ ہم
فنکار بھی ہیں وارث لوح و قلم بھی ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.