Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بولے وہ غیر سے کہ سنو اک ہنسی کی بات

قمر بدایونی

بولے وہ غیر سے کہ سنو اک ہنسی کی بات

قمر بدایونی

MORE BYقمر بدایونی

    بولے وہ غیر سے کہ سنو اک ہنسی کی بات

    سمجھے تھے عاشقی کو قمرؔ دل لگی کی بات

    پوچھا کبھی ملو گے تو بولے کبھی نہیں

    پوچھا یہ کوئی بات کہا اپنے جی کی بات

    کیوں بے وفا کو دوست بنایا تھا کیا کہوں

    قسمت کا پھیر عقل کی خوبی گھڑی کی بات

    میرا معاملہ ہو کہ دل کا معاملہ

    تم نے کبھی کہی نہ کہو منصفی کی بات

    باہیں گلے میں ڈال کے دل مانگتے ہیں وہ

    یہ دوستی کی بات ہے یا دشمنی کی بات

    کہتے ہیں اس سے حال جو کچھ سن سمجھ سکے

    بت ہیں یہ کیا سنیں گے کسی آدمی کی بات

    میں ان کا جاں نثار وہ میرے عدوئے جاں

    یہ میرے دل کی بات وہ ان کی خوشی کی بات

    رحم ان کو میرے حال پر آیا تو کہہ گئے

    تو یہ ہے آج سے نہ سنیں گے کسی کی بات

    کیا پوچھتے ہو دل کو وہ کس طرح لے گئے

    کچھ یاد ہو قمرؔ تو کہوں بے خودی کی بات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے