بولے وہ غیر سے کہ سنو اک ہنسی کی بات
بولے وہ غیر سے کہ سنو اک ہنسی کی بات
سمجھے تھے عاشقی کو قمرؔ دل لگی کی بات
پوچھا کبھی ملو گے تو بولے کبھی نہیں
پوچھا یہ کوئی بات کہا اپنے جی کی بات
کیوں بے وفا کو دوست بنایا تھا کیا کہوں
قسمت کا پھیر عقل کی خوبی گھڑی کی بات
میرا معاملہ ہو کہ دل کا معاملہ
تم نے کبھی کہی نہ کہو منصفی کی بات
باہیں گلے میں ڈال کے دل مانگتے ہیں وہ
یہ دوستی کی بات ہے یا دشمنی کی بات
کہتے ہیں اس سے حال جو کچھ سن سمجھ سکے
بت ہیں یہ کیا سنیں گے کسی آدمی کی بات
میں ان کا جاں نثار وہ میرے عدوئے جاں
یہ میرے دل کی بات وہ ان کی خوشی کی بات
رحم ان کو میرے حال پر آیا تو کہہ گئے
تو یہ ہے آج سے نہ سنیں گے کسی کی بات
کیا پوچھتے ہو دل کو وہ کس طرح لے گئے
کچھ یاد ہو قمرؔ تو کہوں بے خودی کی بات
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.