بے رنگ ہو گئے ہیں بہت آدمی کے خواب
بے رنگ ہو گئے ہیں بہت آدمی کے خواب
چبھنے لگے ہیں آنکھ میں اب زندگی کے خواب
آئیں گے چشم میں کبھی آنسو کی شکل میں
تکلیف دہ بھی ہوں گے شکستہ دلی کے خواب
اب دوستوں کو ہے ہی نہیں دوستی کا پاس
مت دیکھیے جہاں میں ابھی دوستی کے خواب
ہے بخل ساتھ ساتھ انا بھی ہے اوج پر
آتے کہاں ہیں آنکھوں میں دریا دلی کے خواب
فرحانؔ آپ کہنے لگے ہیں غزل کے شعر
تعبیر بن رہے ہیں وہی شاعری کے خواب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.