دھواں دھواں سی فضا میں ہے کائنات ابھی
دھواں دھواں سی فضا میں ہے کائنات ابھی
نکھر سکا نہ کوئی منظر حیات ابھی
ہم ان سے مل کے یہ محسوس کرنے لگتے ہیں
جہاں میں باقی ہے رسم تکلفات ابھی
سنا چکوں تو انہیں داستان حسرت دل
خدا کرے کہ رہے ایک دن تو رات ابھی
انہیں گئے ہوئے عرصہ ہوا مگر جیسے
ہے میرے ہاتھ میں وہ نرم نرم ہات ابھی
نگاہ مہر ہو یا قہر ہو مگر کچھ ہو
امیدوار ہے محروم التفات ابھی
کہیں تو چاند ستارے ہیں گرد راہ حیات
کہیں دلوں پہ ہے گرد توہمات ابھی
غم حبیب میں جی سے گزر گئے تاباںؔ
غم حیات سے ہے زندگی کا سات ابھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.