کتنے انجان ہو رہے ہیں ہم
کتنے انجان ہو رہے ہیں ہم
دھوپ سر پہ ہے سو رہے ہیں ہم
شاید اب قدر زندگی ہو دوست
غم سے مانوس ہو رہے ہیں ہم
کل جو بویا تھا آج کاٹا ہے
کل جو کاٹیں گے بو رہے ہیں ہم
ظلمتوں کو سیاہ بختی کی
روشنی میں سمو رہے ہیں ہم
مسکرائی سحر کرن پھوٹی
حسن افسانہ ہو رہے ہیں ہم
غم کے موتی چنے تھے جو دل نے
آنسوؤں میں پرو رہے ہیں ہم
یہ بھی جینے میں کوئی جینا ہے
تارے ہنستے ہیں رو رہے ہیں ہم
رات مستوں میں پاس ہوش بھی تھا
زندگی تجھ کو کھو رہے ہیں ہم
آنکھ کھلتے ہی یہ ہوا معلوم
موت کی نیند سو رہے ہیں ہم
ابر رحمت اٹھا برس بھی گیا
سر دامن ہی دھو رہے ہیں ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.