Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شباب پر ہیں گلوں کے دماغ جلتے ہیں

منیر آرزو

شباب پر ہیں گلوں کے دماغ جلتے ہیں

منیر آرزو

MORE BYمنیر آرزو

    شباب پر ہیں گلوں کے دماغ جلتے ہیں

    بہار شعلہ بداماں ہے باغ جلتے ہیں

    ترے فراق میں یوں دل کے داغ جلتے ہیں

    اندھیری رات میں جیسے چراغ جلتے ہیں

    نظر بچا کے ستاروں سے ملتے رہیے گا

    یہ پا گئے ہیں ہمارا سراغ جلتے ہیں

    سبق وفا کا زمانے کو میں پڑھاتا ہوں

    مرے چراغ سے سارے چراغ جلتے ہیں

    یہ سوز مئے کا اثر ہے سبو میں رہ کر بھی

    بغیر آگ انڈیلے ایاغ جلتے ہیں

    اندھیری راہ وفا کیوں جگر جگر نہ کرے

    مثال شمع کلیجے کے داغ جلتے ہیں

    جہاں میں اب بھی شہیدوں کے نام روشن ہیں

    بجھے ہیں پھر بھی ہزاروں چراغ جلتے ہیں

    پڑھو منیرؔ نہ ہرگز غزل ترنم سے

    سنا ہے باغ میں کوئل سے زاغ جلتے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے