شباب پر ہیں گلوں کے دماغ جلتے ہیں
شباب پر ہیں گلوں کے دماغ جلتے ہیں
بہار شعلہ بداماں ہے باغ جلتے ہیں
ترے فراق میں یوں دل کے داغ جلتے ہیں
اندھیری رات میں جیسے چراغ جلتے ہیں
نظر بچا کے ستاروں سے ملتے رہیے گا
یہ پا گئے ہیں ہمارا سراغ جلتے ہیں
سبق وفا کا زمانے کو میں پڑھاتا ہوں
مرے چراغ سے سارے چراغ جلتے ہیں
یہ سوز مئے کا اثر ہے سبو میں رہ کر بھی
بغیر آگ انڈیلے ایاغ جلتے ہیں
اندھیری راہ وفا کیوں جگر جگر نہ کرے
مثال شمع کلیجے کے داغ جلتے ہیں
جہاں میں اب بھی شہیدوں کے نام روشن ہیں
بجھے ہیں پھر بھی ہزاروں چراغ جلتے ہیں
پڑھو منیرؔ نہ ہرگز غزل ترنم سے
سنا ہے باغ میں کوئل سے زاغ جلتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.