ہر اک قدم پہ اندھیرا ہے آدمی کے لئے
ہر اک قدم پہ اندھیرا ہے آدمی کے لئے
چراغ شہر ترستا ہے روشنی کے لئے
عجیب شہر ہے مرنے پہ لاکھ کاندھے ہیں
سہارا کوئی نہیں زندہ آدمی کے لئے
نصیب والوں کو ملتا ہے پیار دنیا میں
وگرنہ مجنوں بھٹکتا ہے عاشقی کے لئے
ہمیں تو شمس و قمر سے نہیں ہے کوئی غرض
کہ اک چراغ ہی کافی ہے روشنی کے لئے
اگرچہ کچھ نہیں حاصل بھرم تو رکھ لے گا
تراش لیجئے بت کوئی عاشقی کے لئے
نصیب ایسا کہ شکوے ہزار بنتے ہیں
ہے صبر ایسا کی سر وقف بندگی کے لئے
انہیں یہ زعم کہ یہ حسن ان کا یکتا ہے
ہمیں غرور کہ مرتے ہیں عاشقی کے لئے
بلالؔ حشر میں کیا ہوگا زندگی کا حساب
تمام عمر تعاقب ہے اک خوشی کے لئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.